جامعہ کراچی کے

جامعہ کراچی میں 3 روزہ کتاب میلہ شروع

جامعہ کراچی میں ایک طلباء تنظیم کے زیر اہتمام 25 واں سالانہ 3 روزہ کتب میلہ شروع ہوگیا۔ کتاب میلہ یونیورسٹی کے اسپورٹس جمنازیم اور اس سے ملحقہ گراؤنڈ میں سجایا گیا ہے جس میں سیکڑوں کتابیں رکھی گئی ہیں۔ بک فیئر میں نصابی و غیر نصابی کتب کے علاوہ خواتین کی جیولری کے بھی اسٹال لگائے گئے ہیں۔کتاب میلے سے جامعہ کراچی کے اساتذہ، طلبہ و طالبات کے علاوہ ملحقہ کالجز اور جامعات کے طلبا بھی استفادہ کرتے ہیں۔25 ویں سالانہ کتب میلے کا افتتاح جامعہ کراچی کے مشیر امور طلبہ ڈاکٹر عاصم اور سابق رکن قومی اسمبلی محمد حسین محنتی نے کیا۔جامعہ کراچی کے کتاب میلے میں تمام کتابوں پر خصوصی رعایت دی جاتی ہے جس سے یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلباء و طالبات بھرپور استفادہ حاصل کرتے ہیں۔کراچی یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلباء کی جانب سے سجایا گیا یہ کتب میلہ 13 سے 15 فروری تک جاری رہے گا۔

انتظار قتل کیس:اے آئی جی کی سربراہی میں نئی جے آئی ٹی تشکیل

 کراچی: کراچی میں گزشتہ ماہ اینٹی کار لفٹنگ سیل کے اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نوجوان انتظار احمد کے قتل کی تحقیقات کے لیے ثناء اللہ عباسی کی زیر صدارت نئی جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ انتظار احمد کے والد اشتیاق احمد نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کی جس میں انہوں نے اپنے بیٹے انتظار احمد کے قتل کی تحقیقات کے لیے نئے سرے سے انکوائری کمیٹی قائم کرنے کی درخواست کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے اشتیاق احمد کو انتظار قتل کیس کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد وزارت داخلہ سندھ نے انتظار قتل کیس کی تحقیقات کے لیے 6 رکنی جے آئی ٹی تشکیل دینے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔وزارت داخلہ سندھ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اے آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ ثناء اللہ عباسی کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس میں ڈی آئی جی ساؤتھ زون آزاد خان سمیت رینجرز، سندھ پولیس، آئی بی، آئی ایس آئی اور ایم آئی کے افسران بھی شامل ہیں۔نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی انتظار احمد قتل کیس کے حوالے سے 15 روز میں اپنی تحقیقاتی رپورٹ وزارت داخلہ کو ارسال کرے گی جس کی بنیاد پر کیس کی کارروائی کو مزید آگے بڑھایا جائے گا۔خیال رہے کہ 13 جنوری کو اے سی ایل سی کے اہلکاروں نے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں فائرنگ کر کے انتظار احمد نامی نوجوان کو قتل کر دیا تھا۔نقیب اللہ محسود قتل کیس کی تحقیقات کے لیے بھی اے آئی جی ثناء اللہ عباسی کی زیر قیادت جے آئی ٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے اپنی تحیقات میں راؤ انوار کے پولیس مقابلے کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے سابق ایس ایس پی ملیر کو معطل کرنے اور ان کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی سفارش کی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *