سونامی

بلین ٹری سونامی ۔۔ خان صاحب کے دعوؤں کی قلعی کھول دی

باتیں کروڑوں کی دُکان پکوڑوں کی

بلاشبہ اپنی افادیت اور اہمیت کے اعتبار سے کے پی کے میں ایک ارب پودوں(بلین ٹری سونامی) کی شجرکاری ایک انقلابی اقدام تصور کیا جا رہا تھا جسے تجزیہ کار دوسرے صوبوں کے لئے قابل تقلید قرار دہے تھے ۔اِن کا خیال تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کا یہ چار سالہ دورحکومت میں وہ واحد میگا منصوبہ ہے جس کے دوررس نتائج مرتب ہونگے جس کے مثبت ماحولیاتی اثرات سے دیگر صوبوں میں بھی جائیں گے ۔۔۔۔۔اگر یہ منصوبہ اپنے دعوؤں کے عین مطابق پایہ تکمیل تک پہنچ جاتاتو ۔۔۔۔مگر ایسا ہوا نہیں ۔۔۔۔کیونکہ خود سرکاری دستاویزات نے اعدادوشمار کے مطابق بلین ٹری سونامی منصوبے کی قلعی کھول دی ہے ۔دستاویزی حقائق کے مطابق شجرکاری کے اس منصوبے میں سنگین کرپشن، بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اب تو حکومتی عہدیداروں کے بیانات سے بھی اِن انکشافات کو بھرپور تقویت مل رہی ہے ۔ خیبرنیوز کے پروگرام کے پی فائلز میں صوبائی وزیرجنگلات سید اشتیاق ارمڑ،سینئر صحافی ارشد عزیز ملک، سینئر صحافی سید وقاص شاہ نے شرکت کی جبکہ میزبانی عقیل یوسفزئی نے کی اس موقع پر پر سینئر صحافی ارشد عزیز ملک نے بلین ٹری سونامی کے ادعدادوشمار پیش کئے جس میں انہوں نے بتایا کہ بلین ٹری سونامی کے تحت 73کروڑ 20لاکھ پودے نوپود ہیں جبکہ 2کروڑ 70لاکھ پودے خودرو ہیں یوں 75کروڑ 90لاکھ پودے قدرتی طور پر جنگلات کی بحالی اور حفاظت کے باعث نکلے ہیں اسی طرح 24کروڑ پودے خرید کر حکومت نے انکی شجرکاری کی جبکہ 15کروڑ 30لاکھ پودے لوگوں میں شجرکاری کیلئے مفت تقسیم کئے گئے اس موقع پر صوبائی وزیرجنگلات اشتیاق ارمڑ نے ان اعدادوشمار سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ 60فیصد پودے قدرتی طور پر جنگلات کی حفاظت اور بحالی کے تحت نکلے ہیں جبکہ 40فیصد پودوں کی شجرکاری اور مفت تقسیم ہوئی ہے اس موقع پرارشد عزیز ملک نے سوا چھ ارب روپے نقدادائیگی کا معاملہ ایفا کیا جس کو بھی صوبائی وزیر نے تسلیم کیا اور کہا کہ اس میں بے قاعدگیاں ہوسکتی ہیں ،ٹینڈر کے بغیر خریداری میں بھی بے ضابطگیوں کو تسلیم کیا گیا ۔
اس طرح ساڑھے بارہ ارب روپے کے اس پراجیکٹ میں نرسریوں کے انتخاب سے لے کر پودوں کی خریداری، تقسیم اور شجرکاری میں افسوسناک بے قاعدگیاں پائی گئیں، کام کی نگرانی نچلے درجے کا عملہ کرتا رہا جو اپنے فرائض شفاف طریقے سے ادا نہ کرسکا چنانچہ 3سو سے زائد اہلکاروں کو کرپشن کے الزامات میں برطرف کر دیا گیا جو بجائے خود منصوبے کی ناکامی کا اعتراف ہے اور منصوبے کی شفافیت پر سوالیہ نشان بھی۔ اپوزیشن پارٹیوں خصوصاً اے این پی نے منصوبے کے اخراجات پر سوالات اٹھائے ہیں اور نیب سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ جنگلات میں اضافہ کرنے کے لئے صوبائی حکومت کی یہ اچھی کوشش تھی مگر نااہلی، بدانتظامی اور کرپشن کی وجہ سے ناکام رہی۔ غلطی جس کی بھی ہے اور جہاں بھی ہوئی حکومت کو چاہئے کہ اسے مان لے اور نیب کے ذریعے اس کی شفاف تحقیقات کرائے…عوامی سطح پر کہنا ہے کہ عمران کے دعووں اور انکشافات پر اب یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ باتیں کروڑوں کی دُکان پکوڑوں کی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *